چرخ سے کچھ تھی ہی نہیں
آرزو میں نے کوئی کی ہی نہیں
مذہبی بحث میں نے کی ہی نہیں
فالتو عقل مجھ میں تھی ہی نہیں
چاہتا تھا بہت سی باتوں کو
مگر افسوس اب وہ جی ہی نہیں
جرأت عرض حال کیا ہوتی
لطف اس نے کی ہی نہیں
اس مصیبت میں دل سے کیا کہتا
کوئی ایسی مثال تھی ہی نہیں
آپ کیا جانیں قدر یا اللہ
جب مصیبت کوئی پڑی ہی نہیں
شرک چھوڑا تو سب نے چھوڑ دیا
میری کوئی سوسائٹی ہی نہیں
پوچھا اکبرؔ ہے آدمی کیسا
ہنس کے بولے وہ آدمی ہی نہیں
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے
ڈاکہ تو نہیں ڈالا چوری تو نہیں کی ہے
دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں
بازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا
عشق نازک مزاج ہے بے حد
عقل کا بوجھ اٹھا نہیں سکتا
رہے گا عشقِ بت میں فرق دنیا سے دینی کا
اگر یہ سجدہ ہے کعبے کا وہ سجدہ ہے کچھ اور
رہتا سخن سے نام قیامت تلک ہے
یہ زندہ جاوید ہے وہ مردہ زبان نہیں