بے تکلف بوسۂ زلف چلےپا لیجئے
نقد موجود ہے پھر کیوں نہ سودا لیجئے
تو پہلے لے چکے اب جان کے خواہاں ہیں آپ
اس میں بھی مجھ کو نہیں انکار اچھا لیجئے
پاؤں پکڑ کر کہتی ہے زنجیر زنداں میں رہو
وحشت دل کا ہے ایما راہ صحرا لیجئے
غیر کو تو کر کے ضد کرتے ہیں کھانے میں شریک
مجھ سے کہتے ہیں اگر کچھ بھوک ہو کھا لیجئے
خوش نما چیزیں ہیں بازار جہاں میں بے شمار
ایک نقد دل سے یارب مول کیا کیا لیجئے
کشتہ آخر آتش فرقت سے ہونا ہے مجھے
اور چندے صورت سیماب تڑپا لیجئے
فصل گل کے آتے ہی اکبرؔ ہوئے بے ہوش آپ
کھولیے آنکھوں کو صاحب جام صہبا لیجئے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے
ڈاکہ تو نہیں ڈالا چوری تو نہیں کی ہے
دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں
بازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا
عشق نازک مزاج ہے بے حد
عقل کا بوجھ اٹھا نہیں سکتا
رہے گا عشقِ بت میں فرق دنیا سے دینی کا
اگر یہ سجدہ ہے کعبے کا وہ سجدہ ہے کچھ اور
رہتا سخن سے نام قیامت تلک ہے
یہ زندہ جاوید ہے وہ مردہ زبان نہیں