بہت رہا ہے کبھی لطف یار ہم پر بھی
گزر چکی ہے یہ فصل ہم پر بھی
عروس دہر کو آیا تھا پیار ہم پر بھی
یہ بیسوا تھی کسی نثار ہم پر بھی
بٹھا چکا ہے زمانہ ہمیں بھی مسند پر
ہوا کیے ہیں جواہر نثار ہم پر بھی
عدو کو بھی جو بنایا ہے تم نے محرم راز
تو فخر کیا جو ہوا اعتبار ہم پر بھی
خطا کسی کی ہو لیکن کھلی جو ان کی زباں
تو ہو ہی جاتے ہیں دو ایک وار ہم پر بھی
ہم ایسے رند مگر یہ زمانہ ہے وہ غضب
کہ ڈال ہی دیا دنیا کا بار ہم پر بھی
ہمیں بھی آتش الفت جلا چکی اکبرؔ
حرام ہو گئی دوزخ کی نار ہم پر بھی
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے
ڈاکہ تو نہیں ڈالا چوری تو نہیں کی ہے
دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں
بازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا
عشق نازک مزاج ہے بے حد
عقل کا بوجھ اٹھا نہیں سکتا
رہے گا عشقِ بت میں فرق دنیا سے دینی کا
اگر یہ سجدہ ہے کعبے کا وہ سجدہ ہے کچھ اور
رہتا سخن سے نام قیامت تلک ہے
یہ زندہ جاوید ہے وہ مردہ زبان نہیں