اگر واقف نیرنگیٔ طبع صنم ہوتا
زمانہ کی دو رنگی کا اسے ہرگز نہ ہوتا
یہ پابند مصیبت دل کے ہاتھوں ہم تو رہتے ہیں
نہیں تو چین سے کٹتی نہ دل ہوتا نہ غم ہوتا
انہیں کی ہے وفائی کا یہ ہے آٹھوں پہر صدمہ
وہی ہوتے جو قابو میں تو پھر کاہے کو غم ہوتا
لب و چشم صنم گر دیکھنے پاتے کہیں شاعر
کوئی شیریں سخن ہوتا کوئی جادو رقم ہوتا
بہت اچھا ہوا آئے نہ وہ میری عیادت کو
جو وہ آتے تو غیر آتے جو غیر آتے تو غم ہوتا
اگر قبریں نظر آتیں نہ دارا و سکندر کی
مجھے بھی اشتیاق دولت و جاہ و حشم ہوتا
لئے جاتا ہے جوش شوق ہم کو راہ الفت میں
نہیں تو ضعف سے دشوار چلنا دو قدم ہوتا
نہ رہنے پائے دیواروں میں روزن شکر ہے ورنہ
تمہیں تو دل لگی ہوتی غریبوں پر ستم ہوتا
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے
ڈاکہ تو نہیں ڈالا چوری تو نہیں کی ہے
دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں
بازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا
عشق نازک مزاج ہے بے حد
عقل کا بوجھ اٹھا نہیں سکتا
رہے گا عشقِ بت میں فرق دنیا سے دینی کا
اگر یہ سجدہ ہے کعبے کا وہ سجدہ ہے کچھ اور
رہتا سخن سے نام قیامت تلک ہے
یہ زندہ جاوید ہے وہ مردہ زبان نہیں