آج آرائش گیسوئے دوتا ہوتی ہے
پھر مری جان گرفتار بلا ہوتی ہے
شوق پابوسیٔ جاناں مجھے باقی ہے ہنوز
گھاس جو اگتی ہے تربت پہ حنا ہوتی ہے
پھر کسی کام کا باقی نہیں رہتا انساں
سچ تو یہ ہے کہ محبت بھی بلا ہوتی ہے
جو زمیں کوچۂ قاتل میں نکلتی ہے نئی
وقف وہ بہر شہدا ہوتی ہے
جس نے دیکھی ہو وہ چتون کوئی اس سے پوچھے
جان کیوں کر ہدف تیر قضا ہوتی ہے
نزع کا وقت برا وقت ہے خالق کی پناہ
ہے وہ ساعت کہ قیامت سے سوا ہوتی ہے
روح تو ایک طرف ہوتی ہے رخصت تن سے
آرزو ایک طرف سے جدا ہوتی ہے
خود سمجھتا ہوں کہ رونے سے بھلا کیا حاصل
پر کروں کیا یوں ہی تسکین ذرا ہوتی ہے
روندتے پھرتے ہیں وہ مجمع اغیار کے ساتھ
خوب توقیر مزار شہدا ہوتی ہے
مرغ بسمل کی طرح لوٹ گیا دل میرا
نگہ ناز کی تاثیر بھی کیا ہوتی ہے
نالہ کر لینے دیں للہ نہ چھیڑیں احباب
ضبط کرتا ہوں تو تکلیف سوا ہوتی ہے
جسم تو خاک میں مل جاتے ہوئے دیکھتے ہیں
روح کیا جانے کدھر جاتی ہے کیا ہوتی ہے
ہوں فریب ستم یار کا قائل اکبرؔ
مرتے مرتے نہ کھلا یہ کہ جفا ہوتی ہے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے
ڈاکہ تو نہیں ڈالا چوری تو نہیں کی ہے
دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں
بازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا
عشق نازک مزاج ہے بے حد
عقل کا بوجھ اٹھا نہیں سکتا
رہے گا عشقِ بت میں فرق دنیا سے دینی کا
اگر یہ سجدہ ہے کعبے کا وہ سجدہ ہے کچھ اور
رہتا سخن سے نام قیامت تلک ہے
یہ زندہ جاوید ہے وہ مردہ زبان نہیں