جز ترے کوئی بھی دن نہ جانے میرے
تو کہاں ہے مگر اے دوست پرانے میرے
تو بھی ہے مگر میرا تجسس بے کار
برگ آوارہ کی مانند ٹھکانے میرے
شمع کی لو تھی کہ وہ تو تھا مگر ہجر کی رات
دیر تک روتا رہا کوئی سرہانے میرے
خلق کی بے خبری ہے کہ مری رسوائی
لوگ مجھ کو ہی سناتے ہیں فسانے میرے
لٹ کے بھی خوش ہوں کہ اشکوں سے بھرا ہے دامن
دیکھ غارت گر دل یہ بھی خزانے میرے
آج اک اور برس بیت گیا اس کے بغیر
جس کے ہوتے ہوئے ہوتے تھے زمانے میرے
کاش تو بھی میری آواز کہیں سنتا ہو
پھر پکارا ہے تجھے دل کی صدا نے میرے
کاش تو بھی کبھی آ جائے مسیحائی کو
لوگ آتے ہیں بہت دل کو دکھانے میرے
کاش اوروں کی طرح میں بھی کبھی کہہ سکتا
بات سن لی ہے مری آج خدا نے میرے
تو ہے کس حال میں اے زود فراموش مرے
مجھ کو تو چھین لیا عہد وفا نے میرے
چارہ گر یوں تو بہت ہیں مگر اے جان فرازؔ
جز ترے اور کوئی زخم نہ جانے میرے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
ایک مدت سے مقدر ہے غریب الوطنی
کوئی پردیس میں نا خوش ہو تو گھر بھی جائے
اپنی ہی آواز کو بے شک کان میں رکھنا
لیکن شہر کی خاموشی بھی دھیان میں رکھنا
میرے جھوٹ کو تولو بھی اور کھولو بھی تم
لیکن اپنے سچ کو بھی میزان میں رکھنا
کل تاریخ یقیناً خود کو دہرائے گی
آج کے اک اک منظر کو پہچان میں رکھنا
بزم میں یاروں کی شمشیر کے جوہر دیکھو
رزم میں لیکن تلواروں کو میان میں رکھنا
اس دریا سے آگے ایک سمندر بھی ہے
اور وہ بے ساحل ہے یہ بھی دھیان میں رکھنا