جس سمت بھی دیکھوں آتا ہے کہ تم ہو
اے جان جہاں یہ کوئی تم سا ہے کہ تم ہو
یہ خواب ہے ہے کہ جھونکا ہے کہ پل ہے
یہ دھند ہے بادل ہے کہ سایا ہے کہ تم ہو
اس دید کی ساعت میں کئی رنگ ہیں لرزاں
میں ہوں کہ کوئی اور ہے دنیا ہے کہ تم ہو
دیکھو یہ کسی اور کی آنکھیں ہیں کہ میری
دیکھوں یہ کسی اور کا چہرہ ہے کہ تم ہو
یہ عمر گریزاں کہیں ٹھہرے تو یہ جانوں
ہر سانس میں مجھ کو یہی لگتا ہے کہ تم ہو
ہر بزم میں موضوع سخن دل زدگاں کا
اب کون ہے شیریں ہے کہ لیلیٰ ہے کہ تم ہو
اک درد کا پھیلا ہوا صحرا ہے کہ میں ہوں
اک موج میں آیا ہوا دریا ہے کہ تم ہو
وہ وقت نہ آئے کہ دل زار بھی سوچے
اس شہر میں تنہا کوئی ہم سا ہے کہ تم ہو
آباد ہم آشفتہ سروں سے نہیں مقتل
یہ رسم ابھی شہر میں زندہ ہے کہ تم ہو
اے جان فرازؔ اتنی بھی توفیق کسے تھی
ہم کو غم ہستی بھی گوارا ہے کہ تم ہو
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
ایک مدت سے مقدر ہے غریب الوطنی
کوئی پردیس میں نا خوش ہو تو گھر بھی جائے
اپنی ہی آواز کو بے شک کان میں رکھنا
لیکن شہر کی خاموشی بھی دھیان میں رکھنا
میرے جھوٹ کو تولو بھی اور کھولو بھی تم
لیکن اپنے سچ کو بھی میزان میں رکھنا
کل تاریخ یقیناً خود کو دہرائے گی
آج کے اک اک منظر کو پہچان میں رکھنا
بزم میں یاروں کی شمشیر کے جوہر دیکھو
رزم میں لیکن تلواروں کو میان میں رکھنا
اس دریا سے آگے ایک سمندر بھی ہے
اور وہ بے ساحل ہے یہ بھی دھیان میں رکھنا