جب بھی کھول کے روئے ہوں گے
لوگ آرام سے سوئے ہوں گے
بعض اوقات بہ مجبوریٔ
ہم تو کیا آپ بھی روئے ہوں گے
صبح تک دست صبا نے کیا کیا
پھول کانٹوں میں پروئے ہوں گے
وہ سفینے جنہیں طوفاں نہ ملے
ناخداؤں نے ڈبوئے ہوں گے
رات بھر ہنستے ہوئے تاروں نے
ان کے عارض بھی بھگوئے ہوں گے
کیا عجب ہے وہ ملے بھی ہوں فرازؔ
ہم کسی دھیان میں کھوئے ہوں گے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
ایک مدت سے مقدر ہے غریب الوطنی
کوئی پردیس میں نا خوش ہو تو گھر بھی جائے
اپنی ہی آواز کو بے شک کان میں رکھنا
لیکن شہر کی خاموشی بھی دھیان میں رکھنا
میرے جھوٹ کو تولو بھی اور کھولو بھی تم
لیکن اپنے سچ کو بھی میزان میں رکھنا
کل تاریخ یقیناً خود کو دہرائے گی
آج کے اک اک منظر کو پہچان میں رکھنا
بزم میں یاروں کی شمشیر کے جوہر دیکھو
رزم میں لیکن تلواروں کو میان میں رکھنا
اس دریا سے آگے ایک سمندر بھی ہے
اور وہ بے ساحل ہے یہ بھی دھیان میں رکھنا