ہوا کے زور سے پندار بام و در بھی گیا
کو جو بچاتے تھے ان کا گھر بھی گیا
پکارتے رہے محفوظ کشتیوں والے
میں ڈوبتا ہوا کے پار اتر بھی گیا
اب احتیاط کی دیوار کیا اٹھاتے ہو
جو چور دل میں چھپا تھا وہ کام کر بھی گیا
میں چپ رہا کہ اسی میں تھی عافیت جاں کی
کوئی تو میری طرح تھا جو دار پر بھی گیا
سلگتے سوچتے ویران موسموں کی طرح
کڑا تھا عہد جوانی مگر گزر بھی گیا
جسے بھلا نہ سکا اس کو یاد کیا رکھتا
جو نام لب پہ رہا ذہن سے اتر بھی گیا
پھٹی پھٹی ہوئی آنکھوں سے یوں نہ دیکھ مجھے
تجھے تلاش ہے جس شخص کی وہ مر بھی گیا
مگر فلک کو عداوت اسی کے گھر سے تھی
جہاں فرازؔ نہ تھا سیل غم ادھر بھی گیا
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
ایک مدت سے مقدر ہے غریب الوطنی
کوئی پردیس میں نا خوش ہو تو گھر بھی جائے
اپنی ہی آواز کو بے شک کان میں رکھنا
لیکن شہر کی خاموشی بھی دھیان میں رکھنا
میرے جھوٹ کو تولو بھی اور کھولو بھی تم
لیکن اپنے سچ کو بھی میزان میں رکھنا
کل تاریخ یقیناً خود کو دہرائے گی
آج کے اک اک منظر کو پہچان میں رکھنا
بزم میں یاروں کی شمشیر کے جوہر دیکھو
رزم میں لیکن تلواروں کو میان میں رکھنا
اس دریا سے آگے ایک سمندر بھی ہے
اور وہ بے ساحل ہے یہ بھی دھیان میں رکھنا