ہر کے بعد اک نئی سحر ہوتی ہے
ہر کے بعد کوئی دوا گر ہوتی ہے
یہ شہر جو سو جاتا ہے تھکے ہاروں کی طرح
ہر صبح پھر سے جاگتی اک لشکر ہوتی ہے
میں اپنے آنسو چھپا کے مسکرا دیتی ہوں
ہر عورت کے سینے میں اک سمندر ہوتی ہے
یہ زندگی سحر کوئی آسان تو نہیں
پر ہر گھڑی یہاں کوئی اجالا گر ہوتی ہے
ہر رات کے آخر میں چھپی ایک سحر ہوتی ہے
تھکی آنکھوں میں بھی کوئی نئی دوپہر ہوتی ہے
میں اپنا شہر چھوڑ آئی پر شہر نہ چھوڑ سکا مجھے
ہر خواب میں وہی گلی وہی گھر وہی در ہوتا ہے
وہ عورت جو چپ رہتی ہے اسے کمزور نہ سمجھو
اس کی خاموشی میں چھپا ایک سمندر ہوتا ہے
چھتوں پہ اترتی ہے جب پہلی کرن سحر کی
تو شہر کی ہر کھڑکی میں ایک چراغ سا جلتا ہے
یادوں کے پرانے صندوقوں میں ایک خوشبو رہتی ہے
جسے کھولو تو بچپن کا پورا موسم ملتا ہے
تیرے جانے کے بعد بھی تو میرے ساتھ رہا
ہر شام چائے کی پیالی میں تیرا عکس اترا