یہ تڑپتا ہے اک عاشقی کے لیے
یہ جان حاضر ہے میری کے لیے
میں اپنی آگ میں خود ہی جلا کرتا ہوں
چراغ بن کے کسی روشنی کے لیے
جہان میں آئے ہیں ہم بھی کوئی پیغام لے کر
ہر ایک دل میں چھپی بے کسی کے لیے
مجاز خاک ہو جانے کی آرزو ہے مگر
یہ سر جھکے گا فقط آدمی کے لیے
اب اس کے بعد صبح ہے اور صبحِ نو مجاز
ہم پر ہے ختم شامِ غریبانِ لکھنؤ
تیرے ماتھے پہ یہ آنچل بہت ہی خوب ہے لیکن
تو اس آنچل سے اک پرچم بنا لیتی تو اچھا تھا
شہر کی رات اور میں ناشاد و ناکارہ پھروں
جگمگاتی جاگتی سڑکوں پہ آوارہ پھروں
اے غمِ دل کیا کروں اے وحشتِ دل کیا کروں
آج پھر دل نے مچایا ہے محل کیا کروں
اب مجھے کوئی تمنا کوئی حسرت بھی نہیں
مٹ گئے دل کے نقوش ایسی مصیبت بھی نہیں
خوب پہچان لو اسرار ہوں میں
جنسِ الفت کا طلب گار ہوں میں