دلِ بے تاب کو کا پتا مل جائے
اس اندھیری سی ڈگر میں کوئی دیا مل جائے
میں اسی کی تلقین میں سر گرداں ہوں
کاش اس دشت میں وہ نقشِ پا مل جائے
عشق میں ہوش گنوایا تو یہ عرفان ہوا
خود کو کھو دوں تو مجھے میرا خدا مل جائے
اصغر اس راہِ محبت میں فقط یہ ہے طلب
تجھ کو پاؤں تیری ہر اک دعا مل جائے
یہ عشق یہ جنون یہ ہوش یہ خرد
سب تیری راہ کے غبار ہیں میرے خدا
دلِ بے تاب کو منزل کا پتا مل جائے
اس اندھیری سی ڈگر میں کوئی دیا مل جائے
ہے آج وہی جلوۂ حسنِ ازل مگر
اب دیکھنے کو آنکھ نہیں بے نقاب ہے
فنا کے بعد بھی باقی رہے گا نام میرا
کہ عشقِ یار میں گزرا ہے ہر مقام میرا
تنہائی میں بھی ساتھ رہے یادِ یار کی
جیسے چراغ جلتا رہے شب کے باب میں
محبت میں وہ ایک عالم بھی آیا
کہ اپنا آپ بھی بیگانہ لگتا