کو سکون روح کو آرام ہو گیا
جب تیرا میرے دل کا نام ہو گیا
پہلے تو چند لمحے تھے الفت کے درمیاں
اب تو یہ سلسلہ میرا ہر شام ہو گیا
میں نے کہا تھا عشق نہ کرنا کسی سے تو
یہ دل میرا مگر نہ کسی کام ہو گیا
یہ زندگی جگر تو محبت میں کٹ گئی
یہ بندِ عشق ہی میرا انجام ہو گیا
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
یہ عشق نہیں آساں اتنا ہی سمجھ لیجے
اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے
ان کا جو فرض ہے وہ اہلِ سیاست جانیں
میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے
اک لفظِ محبت کا ادنیٰ یہ فسانہ ہے
سمٹے تو دلِ عاشق پھیلے تو زمانہ ہے
ہم کو مٹا سکے یہ زمانے میں دم نہیں
ہم سے زمانہ خود ہے زمانے سے ہم نہیں
دل کو سکون روح کو آرام آ گیا
موت آ گئی کہ دوست کا پیغام آ گیا
طبیعت ان دنوں بیگانۂ غم ہوتی جاتی ہے
مرے حصے کی گویا ہر خوشی کم ہوتی جاتی ہے