اک لفظِ محبت کا ادنیٰ یہ ہے
سمٹے تو دلِ پھیلے تو زمانہ ہے
یہ عشق نہیں آساں اتنا ہی سمجھ لیجے
اک آگ کا دریا ہے جس کو کہ اتارنا ہے
ہر درد کو سینے میں چھپا رکھا ہے ہم نے
ہر زخم پہ اب تو بس چپ ہو کے مسکانا ہے
دنیا کی نگاہوں میں ہے مجنوں کا لقب پر
اس دل کو تو بس پیار کا اک نذرانہ ہے
یہ عشق جگر ختم سفر ہو نہ سکے گا
ہر سانس میں بس اس کا ہی نام بسانا ہے
یہ عشق نہیں آساں اتنا ہی سمجھ لیجے
اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے
ان کا جو فرض ہے وہ اہلِ سیاست جانیں
میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے
اک لفظِ محبت کا ادنیٰ یہ فسانہ ہے
سمٹے تو دلِ عاشق پھیلے تو زمانہ ہے
ہم کو مٹا سکے یہ زمانے میں دم نہیں
ہم سے زمانہ خود ہے زمانے سے ہم نہیں
دل کو سکون روح کو آرام آ گیا
موت آ گئی کہ دوست کا پیغام آ گیا
طبیعت ان دنوں بیگانۂ غم ہوتی جاتی ہے
مرے حصے کی گویا ہر خوشی کم ہوتی جاتی ہے
یاد ہے
حسرت موہانی