تیرا جمال میں سما کے ہو گیا
یہ بھی تیرا ہی اک آشنا کے ہو گیا
میں اس گلی سے گزرا تو یہ ہوا مجھ کو
ہر ایک ذرہ وہاں کا خدا کے ہو گیا
تیرے بغیر تو جی بھی نہیں لگتا اب
یہ شہر مجھ کو اک دشتِ بلا کے ہو گیا
یہ مصحفی تھا کبھی خاکِ رہ گزر لیکن
تیرے کرم سے وہ اب کیمیا کے ہو گیا
اے مصحفی تو ان رخِ زیبا سے کچھ لکھ
پروانہ ہے یہ موجِ صبا اور کچھ نہیں
دیکھا جو حسنِ یار تو دل تھام کے رہ گئے
آنکھوں میں وہ جمال کا جلوہ سما گیا
ہوئی جس دم سے آنکھیں چار دل کو ہو گیا کیا کیا
مگر یہ عشق مجھ کو دے گیا آزار کیا کیا
غمِ ہجراں میں کٹتی ہے مری ساری رات
سحر کے واسطے تاروں کو میں گنتا ہوں
نہ چھیڑ اے فلک اب تو یہ سازِ زندگی
کہ ایک آہ میں ہے گردشِ روزگار مری
اے دل تجھے اب اس میں ہے کیا اضطراب
جو ہونا تھا سو ہو چکا اب صبر اور کچھ نہیں