اجاڑ گیا ہے سارا یہ تیرے بعد
خاموش ہو گیا ہر ایک تیرے بعد
وہ رونقیں وہ محفلیں سب کھو گئیں
اداس بیٹھا ہے یہ انجمن تیرے بعد
میں ڈھونڈتا ہوں تیری خوشبو ہر طرف
پرایا ہو گیا ہے یہ وطن تیرے بعد
کہے خسرو کہ بس اتنی ہے آرزو
لپٹتا رہے مجھ سے کفن تیرے بعد
خسرو دریا پریم کا، الٹی وا کی دھار
جو اترا سو ڈوب گیا، جو ڈوبا سو پار
خسرو رین سہاگ کی جاگی پی کے سنگ
تن مورا من پی کا دونوں بھئے ایک رنگ
گوری سووے سیج پر مکھ پر ڈارے کیس
چل خسرو گھر آپنے رین بھئی چہوں دیس
زحالِ مسکیں مکن تغافل، دُرائے نینا بنائے بتیاں
کہ تابِ ہجراں ندارم اے جاں، نہ لیہو کاہے لگائے چھتیاں
اپنی چھب بنائے کے جو میں پی کے پاس گئی
جب چھب دیکھی پی کی تو اپنی بھول گئی
بہت کٹھن ہے ڈگر پنگھٹ کی
کیسے میں بھر لاؤں مدھوا سے مٹکی