یہ ریت انوکھی ہے سب جگ سے نیاری پریم کی
جو ڈوب گیا سو پار اترا خماری پریم کی
نظر ملی تو سارا بھلا بیٹھے
اک سی لگا گئی چنگاری پریم کی
نہ نیند آئے نہ چین آئے نہ قرار آئے
عجب بیماری ہے یہ بیماری پریم کی
جسے لگی ہے وہی جانے اس کا مول
کوئی بتائے کیا قیمت ہماری پریم کی
کہے خسرو کہ میں تو بک گیا اس در پہ
لٹا کے ہوش و خرد ساری پریم کی
خسرو دریا پریم کا، الٹی وا کی دھار
جو اترا سو ڈوب گیا، جو ڈوبا سو پار
خسرو رین سہاگ کی جاگی پی کے سنگ
تن مورا من پی کا دونوں بھئے ایک رنگ
گوری سووے سیج پر مکھ پر ڈارے کیس
چل خسرو گھر آپنے رین بھئی چہوں دیس
زحالِ مسکیں مکن تغافل، دُرائے نینا بنائے بتیاں
کہ تابِ ہجراں ندارم اے جاں، نہ لیہو کاہے لگائے چھتیاں
اپنی چھب بنائے کے جو میں پی کے پاس گئی
جب چھب دیکھی پی کی تو اپنی بھول گئی
بہت کٹھن ہے ڈگر پنگھٹ کی
کیسے میں بھر لاؤں مدھوا سے مٹکی