جینا بھی کوئی جینا ہے جینا یار بنا
دن کٹی ہے یہ سفینہ یار بنا
آنکھوں میں بسا ہے وہ گلِ تر ہر دم
کیسا ہو بھلا کا قرینہ یار بنا
تاروں کی طرح جاگ کے کاٹی ہے یہ شب
آتا ہی نہیں چشم کو زینہ یار بنا
صحرا بھی لگے گھر سی زمین جب ہو سجن
گھر بھی لگے صحرائے مدینہ یار بنا
کہتا ہے ولی روتے ہوئے اہلِ چمن سے
پھولا نہیں گلشن میں قرینہ یار بنا
کیا کہوں کچھ کہا نہیں جاتا
اب تو بن تیرے رہا نہیں جاتا
یاد کرنا ہر گھڑی اس یار کا
ہے وظیفہ مجھ دلِ بیمار کا
راہِ مضمونِ تازہ بند نہیں
تا قیامت کھلا ہے بابِ سخن
جسے عشق کا تیر کاری لگے
اسے زندگی کیوں نہ بھاری لگے
مفلسی سب بہار کھوتی ہے
مرد کا اعتبار کھوتی ہے
دیکھنا ہر صبح تجھ رخسار کا
ہے مطالعہ مجھ دلِ بیمار کا