ہر صبح تیری یاد سے آباد ہے یہ دل
تیرے بغیر اک پل نہ شاد ہے یہ دل
تجھ ہجر کی یہ رات نہ ہونے کو آتی ہے
روتا رہا ہے اور نہ برباد ہے یہ دل
تیری گلی کا خاک ہے سرمہ میرے لیے
تیرے کوچے کی دھول سے آزاد ہے یہ دل
میں نے سنا ہے حسن بھی کرتا ہے عاشقی
اس آس پر ابھی تلک شاد ہے یہ دل
چھوڑا نہیں ولی نے کبھی عشق کا اثر
مرتے دم تک تیری ہی فریاد ہے یہ دل
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
مفلسی سب بہار کھوتی ہے
مرد کا اعتبار کھوتی ہے
دیکھنا ہر صبح تجھ رخسار کا
ہے مطالعہ مجھ دلِ بیمار کا