ہر صبح تیری یاد سے آباد ہے یہ دل
تیرے بغیر اک پل نہ شاد ہے یہ دل
تجھ ہجر کی یہ رات نہ ہونے کو آتی ہے
روتا رہا ہے اور نہ برباد ہے یہ دل
تیری گلی کا خاک ہے سرمہ میرے لیے
تیرے کوچے کی دھول سے آزاد ہے یہ دل
میں نے سنا ہے حسن بھی کرتا ہے عاشقی
اس آس پر ابھی تلک شاد ہے یہ دل
چھوڑا نہیں ولی نے کبھی عشق کا اثر
مرتے دم تک تیری ہی فریاد ہے یہ دل
کیا کہوں کچھ کہا نہیں جاتا
اب تو بن تیرے رہا نہیں جاتا
یاد کرنا ہر گھڑی اس یار کا
ہے وظیفہ مجھ دلِ بیمار کا
راہِ مضمونِ تازہ بند نہیں
تا قیامت کھلا ہے بابِ سخن
جسے عشق کا تیر کاری لگے
اسے زندگی کیوں نہ بھاری لگے
مفلسی سب بہار کھوتی ہے
مرد کا اعتبار کھوتی ہے
دیکھنا ہر صبح تجھ رخسار کا
ہے مطالعہ مجھ دلِ بیمار کا