تجھ لب کی بات کی شان سوں کہوں گا
ہر اک کو میں نشان سوں کہوں گا
جس دم کھلے گا رازِ محبت زبان پر
اس درد کو میں ساری جہان سوں کہوں گا
تیرے فراق میں جو گزر گیا شب و روز
ہر غم کی رات کو میں فغان سوں کہوں گا
دل کی کتاب کھول کے پڑھتا ہوں عشق کو
یہ داستان میں اہلِ بیان سوں کہوں گا
چھپتا نہیں ہے عشق ولی لاکھ چھپیے
یہ حال اپنا اب تو جہان سوں کہوں گا
دیکھنا ہر صبح تجھ رخسار کا
ہے مطالعہ مجھ دلِ بیمار کا