جگر مرادآبادی کا نغمہ ریز رومان — مشاعرے کا محبوب ترین رنگ۔
جگر نے عشق کو موسیقی کی طرح لکھا — اسے بلند آواز میں سنیے۔
یہ عشق نہیں آساں اتنا ہی سمجھ لیجے
اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے
ان کا جو فرض ہے وہ اہلِ سیاست جانیں
میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے
اک لفظِ محبت کا ادنیٰ یہ فسانہ ہے
سمٹے تو دلِ عاشق پھیلے تو زمانہ ہے
ہم کو مٹا سکے یہ زمانے میں دم نہیں
ہم سے زمانہ خود ہے زمانے سے ہم نہیں
دل کو سکون روح کو آرام آ گیا
موت آ گئی کہ دوست کا پیغام آ گیا
طبیعت ان دنوں بیگانۂ غم ہوتی جاتی ہے
مرے حصے کی گویا ہر خوشی کم ہوتی جاتی ہے
ہم جسے گنگنا نہیں سکتے
وقت نے ایسا گیت کیوں گایا
کچھ عشق کیا کچھ کام کیا
وہ لوگ بہت خوش قسمت تھے